Kese nazarandaz karoon article by Shumaila Zeb

Summary

جہاں حکومت کے ہاتھ سے نکلتے ہیں وہاں قانون اپنا کام کر دیتی ہے۔آواز اٹھانے والے کی قانونی کاروائی شروع کروا دی جاتی ہے کیونکہ سچ سنا کسی کو قبول ہے نہ سننا برداشت۔

جو کوئی حکومت اور قانون کو جان لیتا ہے وہ جان سے جاتا ہے۔

آواز اٹھانے والوں کی آوازیں چھین لی جاتی ہیں۔

کیا یہ سب نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ہرگز نہیں۔

کئی نوجوانوں کی تعلیمی اداروں پہ خودکشی کی وجہ۔۔ذہنی دباؤ اساتذہ کی بدسلوکی اداروں کی غیر ذمہ داری۔

ایک اور سمت جاؤں تو اندھے قانون کی بہت بڑی دلیل یا ثبوت۔۔۔

ریپ کیسز ہراسمنٹ آخر کیوں؟؟؟؟

ایک بہت بڑا سوالیہ نشان۔

نو مولود سے جوان بچیاں بلکہ بوڑھی عورتیں ایک عورت ہی نشانے پر کیوں؟

کیونکہ وہ بہن ہے ماں ہے بیوی ہے لیکن اپنی نہیں۔۔ رائٹ.؟

کیوں ایسے اہم موضوعات کو دبایا جاتا؟ کیوں اس پہ قانون نہیں چلاتی ؟کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ؟کیونکہ اپنی ماں بہن نہیں اس لیے؟

کیوں کسی کی ماں بہن بیٹی کا دکھ اپنا نہیں سمجھا جاتا؟

کسی منسٹر کی بیٹی ہو تو گھنٹوں میں ظالم کی گردن پہ قانون کا ہاتھ ہوتا اور سلاخوں کے پیچھے کیوں؟

کیونکہ بڑی رقم خزانے میں آتی اس لیے۔۔اور غریب کی بچی اس لیے ہاتھ پھیلائے رہ جاتی کیونکہ اس کے ہاتھ خالی۔۔۔

ہمارے قانون میں ظالم کو پھانسی کیوں نہیں آخر کس بات کا ڈر؟؟؟؟؟؟

کیوں سرعام پھانسی نہیں؟

کیوں مظلوم کی چیخ و پکار سنی نہیں جاتی؟

خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور ان میں زیادہ تر کی عمر 20 سے 30 سال ہے کیونکہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کو سپورٹ محبت خیال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

گریٹس کم ہونے کی وجہ سے خودکشی۔۔

احساس کمتری کی وجہ سے خودکشی۔۔

ریپ کیس میں خودکشی۔۔

محبت میں ناکامی میں خودکشی۔۔۔

نوکری نہ ملنے اور مسلسل بے روزگار رہنے پر خودکشی۔۔۔

اخراجات نہ پورے کر سکنے پر خودکشی۔۔۔

اور کچھ ایسے ہیں جو حکومت کی وجہ سے خودکشی کرتے ۔۔

ہمارا معاشرہ ہر بات پہ عورت پر انگلی اٹھاتا ہے ،اسے ہی ہر جگہ پہ غلط ثابت کرتا ہے ،،تو آپ بتائیں ۔۔۔۔کیا ننہی نو مولود بچیوں نے مردود مردوں کو اپنی طرف متوجہ کیا؟ 

کیا 18 اور 3 ماہ کی بچی چھوٹے کپڑے پہنے بے حیائ پھیلا رہی تھیں ؟

کیا وہ خود حراسا ہو کر مرنا چاہتی تھیں؟

کیوں ان درندوں کو سزا نہیں؟

کیوں ان درندوں پہ رہم؟؟؟؟

ان بچیوں پہ نہیں؟؟؟؟

ایک کو سرے عام پھانسی دی جاتی تو شاید حکومت کے اس فیصلے سے نا جانے کتنی بچیوں،بیٹیوں کی جان اور عزت محفوظ رہتی ۔

در حقیقت ہماری حکومت اور حکمران ان کی قاتل ہیں ۔

ٹیکسز، بلز ،رینٹس کہاں سے بھرے جب کوئی ذریعہ معاش نہیں۔ آج کل روٹی پانی پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا اور زندگی اتنی تنگ پڑ گئی کہ لوگوں نے زندگی کے حالات سے تنگ ا کر خودکشی کرنا اور خود کو تکلیفوں سے آزاد کرنا بہتر عمل سمجھا۔

معاشرہ قاتل ہے ان لوگوں کا جنہوں نے زندگی ختم کرنا بہتر سمجھا۔

کوئی انسان بھی دراصل مرنا نہیں چاہتا لیکن معاشرہ اسے اس عمل پر مجبور کر دیتا ہے۔

اب ذرا بات کرتی ہوں ان لوگوں کی کچھ ہٹ کے جو نہایت خود کو مکمل اور اپنی ذات میں انتہا کے بہترین لوگ سمجھتے ہیں۔

جنہیں یہ لگتا ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں وہی بہترین عمل ہے۔

ہاں میں بات کر رہی ہوں ان محترم والدین کی جو اپنی بات کو بجا سمجھتے ہیں ان کا قانون الگ، مذہب الگ ،ان کی اپنی ایک دنیا ،اپنی ایک سائیکی ہے۔وہ یہ کہ ماں باپ غلط نہیں ہو سکتے۔

ٹھیک ہے مصنفہ اتفاق کرتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار وہ ٹھیک بھی ہوں کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور انسانوں میں ماں باپ کا بھی شمار ہوتا ہے۔

میں شمائلہ زیب بطور آرٹیکل رائٹر آج صرف ایک سوال کرنا چاہوں گی ان والدین سے جو کہ پسند کی شادی کے سخت خلاف ہوتے ہیں. اور اپنے بچوں سے حقیقی حق اور خوشیاں چھینتے ہیں۔

جبکہ صاف الفاظ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرما دیا جو کہ اللہ کے محبوب ہیں بے شک۔:

” ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی بہترین اور کوئی چیز نہیں دیکھی”

اور اسی حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتی چلوں اور امید ہے کہ اس کے بعد شاید بہتر طریقے سے سمجھ ا جائے۔

(واقعہ حضرت خنسہ بنت خدام رضی اللہ تعالی عنہ)

*ان کے والد نے ان کا نکاح زبردستی ایک ایسے شخص سے کر دیا تھا جو ان کو پسند نہیں تھا۔* 

*وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ بیان کیا۔* 

*نبی ﷺ نے فوراً اس نکاح کو _ختم/توڑ_ دیا اور فرمایا:*

*”تمہیں اختیار ہے، جس سے چاہو نکاح کرو۔”*

*اس کے بعد انہوں نے اپنی پسند سے نکاح کیا۔

اس حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں بالغ لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔

اس واقعے سے اندازہ لگائے کہ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زبردستی کی شادی تڑوا کر اس لڑکی کا اس کی مرضی کے مطابق نکاح کروایا تو آپ خود سوچیے کیا آپ خدا اور رسول سے نعوذ باللہ اوپر درجہ رکھتے ہیں؟

یا ان کی بات کو رد کر کے اپنی بات کو ترجیح دے سکتے ہیں؟

اگر تو آپ واقعی خدا اور رسول کو ماننے والے ہیں تو آپ رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

اب آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جہاں ہر کوئی بے جھجک ایسے سوال کرتا ہے جیسے ہماری زندگی کا ٹھیکہ انہوں نے لیا ہو اور ہم ان کے ٹکڑوں پر پل رہے ہوں یعنی ان کے کندھوں پر بوجھ ہو۔

جاب کیوں نہیں کرتی؟

اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرو گی؟جبکہ گھر گھرستی ہی سنبھالنی ہے۔

کب کر رہی ہو شادی؟

طلاق کیوں ہو گئی؟

بچے کیوں نہیں ہو رہے؟

ان سب باتوں پہ سوال کرنے کا حق کس نے دیا؟

ہر جسم میں جان ڈالنے والی ذات اللہ ہے تو پالنے والی بھی وہی ہے اور بے شک فیصلہ کرنے والی بھی ۔

کوئی بھی جان بوجھ کر بیوہ نہیں ہوتی۔

کوئی لڑکی یہ نہیں چاہتی کہ اس کی شادی نہ ہو۔

کوئی اپنی مرضی سے بے اولاد نہیں بیٹھی۔

کچھ بھی انسان کے اپنے ہاتھ میں نہیں۔

پھر سوالیہ نشان کیوں؟

اپنی زندگی سے بڑھ کر اکثر لوگ دوسروں کی زندگی میں انٹرفیئر کیوں کرتے ہیں آخر؟

کچھ سوال انسان کے منہ پر تھپڑ کی مانند ہوتے ہیں۔ گزارش ہے کہ کسی کی منہ پہ تماچے مارنے سے پہلے خود پر نظر ثانی کر لیں اور ایسے سوالات سے گریز کریں۔

اپ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ آپ کسی کی ذات پر سوال اٹھائیں۔

دوسروں کو ان کی خامیاں بتانا اور تکلیفوں کو اُجاگر کرنا بند کریں۔

نہ تو اپ نے کسی کی شادی کے اخراجات اٹھانے ہیں۔

نہ کسی کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے ہیں۔

نہ کسی نے کما کر اپ کو دینا ہے۔

دوسروں کی زندگی کے فیصلے کرنا چھوڑیے اور اپنے آپ پر توجہ دیجئے کیونکہ کوئی بھی انسان خامیوں کے بغیر یا کمیوں کے بغیر پیدا نہیں ہوا مکمل ذات صرف خدا کی ہے۔

کچھ ان لوگوں کی طرف چلتے ہیں جو بظاہر دنیا والوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

اصل میں ہوتا کچھ ہے اور بظاہر دنیا والوں کو کچھ دکھایا جاتا ہے۔

 سوشل میڈیا پہ ہر کوئی ایسے خود کو پیش کرتا ہے جیسے ان کی زندگی خوشحال اور پرسکون ہے ان سے بہترین زندگی کوئی اور نہیں گزار رہا اور ان کو دیکھ کر ہر کوئی احساس کمتری اور کمی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے کہ شاید یہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار رہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہر ایک انسان کی زندگی میں اونچ نیچ لگی رہتی ہے۔

آج ہر کوئی موبائل کی سکرین پر بادشاہ لگتا ہے۔ 

کسی کے گھر مہنگے کھانے، کسی کی نئی گاڑی، کسی کی “پرفیکٹ” شادی کی تصویریں۔ 

ہم دیکھتے ہیں اور اپنا دل چھوٹا کر لیتے ہیں۔

لیکن حقیقت کیا ہے؟ 

*انسٹاگرام پر جو مسکراہٹ ہے، ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آنسوں ہوں۔

*جو “پرفیکٹ فیملی” کی پک ہے، ہو سکتا ہے شام کو اسی گھر میں لڑائی ہو شاید سب سے زیادہ طناظات انہی کے گھر ہوں۔

*جو کامیابی دکھا رہا ہے، ہو سکتا ہے وہ رات بھر قرض کا سوچ کر سویا ہو۔

ہم 30 سیکنڈ کی ریل دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا موازنہ کر لیتے ہیں۔ 

اور پھر خود کو ناکام سمجھ کر ٹوٹ جاتے ہیں۔

زندگی بہت چھوٹی ہے بجائے اس کے ،کہ ہم اسے دوسروں کی سوچ میں ضائع کر دیں اپنے لیئے بہترین سوچیں،خود کو ترجیح دے،خود میں سکون تلاش کریں ۔

جو تمہاری قدر نہیں کرتا، اسے نظر انداز کر دو۔

جو تمہیں گرا رہا ہے، اس سے فاصلہ کر لو۔ 

اور جو تمہیں اللہ نے دیا ہے اس پر شکر کرو۔ 

کیونکہ آخر میں آپ کے ساتھ آپ کا ضمیر اور آپ کا رب ہوگا، لوگ نہیں۔

   ختم شد

“کیسے نظر انداز کروں ۔۔   –

                                خلاصہ

شمائلہ زیب کا یہ آرٹیکل ہمارے معاشرے کے ان زخموں پر ہے جنہیں لوگ “نظر انداز” کر کے جی رہے ہیں۔

*اہم نکات:*

. اندھا نظام* 

ملک کا قانونی، سیاسی اور حکومتی نظام انصاف کے بجائے پیسے، سفارش اور اثر و رسوخ پر چل رہا ہے۔ مظلوم کو انصاف نہیں ملتا، ظالم آزاد گھومتا ہے۔

. تعلیم اور نوکری کا بحران* 

اسکول، کالج مہنگے ہو گئے۔ غریب کا بچہ قرض لے کر بھی پڑھے تو آخر میں سفارش اور رشوت کی وجہ سے نوکری نہیں ملتی۔ جس سے نوجوان مایوسی اور خودکشی کی طرف جا رہے ہیں۔

. عورت پر ظلم اور خاموشی* 

ریپ اور ہراسمنٹ کے کیسز دبا دیے جاتے ہیں۔ امیر کی بیٹی کے لیے قانون فوراً حرکت میں آتا ہے، غریب کی بیٹی کے لیے نہیں۔ سرعام سزا نہ ہونے سے ظلم بڑھ رہا ہے۔

. سماجی دباؤ اور جھوٹی زندگی*

والدین زبردستی شادی کرتے ہیں جبکہ اسلام میں لڑکی کی رضا ضروری ہے۔ لوگ ذاتی زندگی میں بے جا سوال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی “پرفیکٹ” زندگی دیکھ کر نوجوان احساس کمتری کا شکار ہو کر ٹوٹ جاتے ہیں۔

آرٹیکل کا پیغام–

ہر چیز نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اپنی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے کہ جو لوگ آپ کی قدر نہیں کرتے اور جو چیزیں آپ کے کنٹرول میں نہیں، انہیں چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی، اپنی ترجیحات اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ کیونکہ آخر میں آپ کے ساتھ آپ کا ضمیر اور رب ہوگا، لوگ نہیں۔

یہ آرٹیکل نظام کی ناانصافی، تعلیمی و معاشی مایوسی، اور سماجی دباؤ کے خلاف ایک چیخ ہے، اور آخر میں خود سے محبت اور سکون تلاش کرنے کی دعوت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.Required fields are marked *

Scroll to Top